-32%

Tafseeron mein inhiraaf ki shaklein – تفسیروں میں انحراف کی شکلیں

Availability:

2 in stock (can be backordered)


تفسیروں میں انحراف کی شکلیں

مصنف: شیخ ذکی الرحمن غازی مدنی حفظہ اللہ

جلد: 2

صفحات: 1760

اصل قیمت: 1550

رعایتی قیمت: 1050 + ڈاک خرچ

Tafseeron mein inhiraaf ki shaklein

Author: Shaikh Zaki ur Rahman Ghazi Madani Hafizahullah 

Vols: 2

Pages: 1760

Price: 1050 + Shipping

Hassle Free Returns

Easy 5 days return policy.

Fast Shipping

All orders are shipped in 5-7 business days.

Secure Checkout

SSL Enabled Secure Checkout

1,050.00 1,550.00

You Save: 500.00 (32.26%)
  Ask a Question

ذکی الرحمٰن غازی مدنی

نام کتاب: “تفسیروں میں انحراف کی شکلیں “

دو حصے مجلد مع گردپوش، 

مجموعی تعداد صفحات:1760

قیمت:1550

قرآن پاک کے بارے میں بجا طور پر حدیث میں یہ کہا گیا ہے کہ لا تنقضی عجائبہ، یعنی اس کے الفاظ واسالیب میں پنہاں اسرار اور حکمتوں کے اتھاہ خزانے کبھی ختم نہیں ہوسکتے۔ یہ اللہ کے کلام کا اعجاز ہے کہ جب ایک معمولی سمجھ بوجھ اور علمی سطح رکھنے والا آدمی اسے سادگی سے پڑھتا ہے تو اس کا وہ سادہ مفہوم سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی جو اسے عمومی ہدایت کے لیے کافی وشافی ہے۔ لیکن جب کوئی عالم اسی کلام سے احکامات اور حکمتوں کا استنباط واستخراج کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہی کلام بڑے دقیق وعمیق نکات کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ان نکات کی گہرائی اور ہمہ گیری ہر شخص کی علمی سطح اور درجۂ بصیرت کے مطابق بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے جابجا اس کلام میں تدبر و تفکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اس کے نتیجے میں بسااوقات ایک عالم پر وہ دقائق ولطائف اور اسرار ونکات منشرح ہوتے ہیں جن کی طرف پہلے کسی نے توجہ نہیں کی ہوتی۔ 

مگر یہ نت نئے نکات کی دریافت وعظ وتذکر، معارف وحقائق، اسرارِ تکوین اور تشریع کی حکمتوں سے متعلق ہوتی ہے۔ اس میدان میں بلا شبہ نئے آنے والے ایسے حقائق دریافت کر سکتے ہیں جن کی طرف متقدمین کی نظر نہیں گئی ہوتی۔ اسی کو امیر المومنین حضرت علیؓ بن ابی طالب نے فہمِ خداداد (فہم یؤتاہ الرجل) سے تعبیر فرمایا ہے۔ 

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دینی عقائد اور شرعی احکام کے تعین میں بھی کوئی ایک شخص پوری امت کے علمی اجماع اور عملی تواتر کے برخلاف اور ہزاروں صحیح حدیثوں کا انکار کرتے ہوئے قرآن مجید کی کوئی ایسی نئی تشریح و تفسیر کرسکتا ہے جو مسلمہ عقائد واحکام کے منافی ہو۔ اگر خودپرستی کے شکار کسی ایسے شخص کی بات مان لی جائے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن مجید جن عقائد واحکام کی تبلیغ کے لیے آیا تھا وہ اب تک مبہم اور ناقابل فہم رہے، اس سے جہاں قرآن کے کلامِ مبین ہونے کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے، وہیں اس سے پورے دین کا ناقابل اعتبار ونالائقِ اعتماد ہونا لازم آتا ہے۔ 

ہر زمانے میں فہمِ قرآن کی آڑ لےکر تخریبی عزائم پورے کرنے والوں نے یہی کیا ہے۔ ان کے مطابق چودہ سو سالوں میں نہ کسی نے آیت ِ محاربہ کا مطلب سمجھا نہ حدِ سرقہ بیان کرنے والی آیت کا، “یدنین علیہن من جلابیبہن” سے امت آج تک غلط طور پر پردے کا حکم نکالتی آئی تھی، قصاص کے نام پر جو جانیں بھی لی گئیں وہ سب اکارت ہوئیں۔ الغرض فہمِ قرآن کے نام پر ایسے لوگ ایک بالکل ہی نیادین پیش کردینا چاہتے ہیں جو تمام تر ان کی خواہشاتِ نفسانیہ اور ان کے درپردہ آقاؤں کی پسند وناپسند کے مطابق ہو۔آج بھی آپ کسی تجدد پسند اور مغرب نواز مفکر یا مفسر کو دیکھ لیجئے، اس کی تان ہمیشہ یہیں آکر ٹوٹے گی کہ فلاں آیت اور فلاں حکمِ شرعی کو آج تک پوری ملتِ اسلامیہ میں سے کوئی درست نہیں سمجھ سکا۔ 

ایسے میں شدید ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تفسیری انحرافات پر گرفت کی جاتی  رہے اور ان غلطیوں کے مقابلے میں صحیح راہ نمایاں کر دی جائے۔ یہ کتاب “تفسیروں میں انحراف کی شکلیں” اسی سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔ اللہ کا شکر واحسان ہے کہ یہ کتاب طباعت کے مرحلے سے گزر کر منظرِ عام پر آگئی ہے۔ چند ہفتوں قبل میں نے اس کا مختصر تعارف کراتے ہوئے اس کے مندرجات کی فہرست شیئر کی تھی، اسے من وعن دوبارہ ذیل میں درج کررہا ہوں:

تحدیثِ نعمت

ذکی الرحمٰن غازی مدنی

لوگ کہتے ہیں کہ باپ کو اپنا ہر بچہ پیارا ہوتا ہے، اور شاعر کو اپنا ہر شعر۔ شاید یہی حال مصنف کا ہوتا ہے کہ اسے بھی اپنی ہر کتاب سے بے حد پیار ہوتا ہے۔ مگر کچھ کتابیں اس کی صحت اور وقت اور ذہنی توانائی کا بڑا حصہ اپنے اندر جذب کر لیتی ہیں اور ان سے ایک خاص رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ 

کتاب کے تین مرحلے یا تین منزلیں ہوتی ہیں، پہلی یہ سوچنا کہ کس موضوع پر کیا اور کیسے لکھنا ہے اور تیسری جب کتاب چھپ کر آجائے تو جذباتِ شکر ومسرت میں ڈوب جانا۔ مگر ان دونوں کے درمیان جو دوسرا مرحلہ ہے وہ بڑا صبر آزما اور ہمت شکن ہوا کرتا ہے۔

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر واحسان ہے کہ اس نے تفسیروں میں انحراف کی شکلوں کے موضوع پر ایک کتاب کی تکمیل کی ہمت اور توفیق دی۔تفسیرِ قرآن کے نام پر ملت کی رگوں میں جس طرح انکارِ حدیث اور شریعت سے انحراف کا زہر بھرا جارہا ہے وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس کے مقابلے میں اٹھنے کے لیے -کچھ بھی نہ ہوتے ہوئے- ایک عاجز بندے نے کمرِ ہمت باندھی۔ اس سلسلے میں میرے سامنے کام کا جو نقشہ تھا، اس کے مطابق مجھے تین کتابوں میں اس موضوع  کے اطراف وجوانب کو سمیٹ لینا تھا۔ 

۱-تفسیرِ قرآن کے غلط طریقے(تعدادِ صفحات:۹۰۴) مکتبہ الفہیم مئو سے شائع ہوگئی ہے۔اس میں فوکس اردو تفاسیر پر رہا ہے۔ 

۲-دوسری کتاب تفسیروں میں انحراف کی شکلیں (تعدادِ صفحات ایک فائیو سائز میں:۱۷۷۰) پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی ہے، انشاء اللہ جلد ہی یہ طباعت کے مرحلے سے گزر کر دو جلدوں میں قارئین کے ہاتھوں میں ہوگی۔اس میں فوکس عربی تفاسیر پر ہے۔ کتاب یقیناً ضخیم بہت ہوگئی ہے اس کے باوجود بعض مباحث تشنہ رہ گئے ہیں۔ 

۳-اس لیے “سیکولر طرزِ تفسیر” کے نام سے مستقل ایک کتاب لکھنے کا ارادہ ہے جس کی حیثیت اس کتاب کے تکملے کی ہوگی۔ 

۴-تیسری کتاب جو اب ترتیب میں چوتھی بن گئی ہے،اس کا عنوان “بیسویں صدی کا تفسیری انحراف” سوچ رکھا ہے۔ اس میں “رجوع الی القرآن” اور دیگرخوش نما نعروں کی آڑ میں امت کو سیرت وسنت اور اسوۂ صحابہ سے دور کرنے والی ایک خاص گروہ کی سازشوں اور کوششوں کا انشاء اللہ جائزہ لیا جائے گا کہ ان کی ابتداء کب اور کن لوگوں کے ذریعے سے ہوئی۔ دعا فرمائیں کہ باری تعالیٰ ان منصوبوں کی تکمیل کی توفیق دے۔ 

چونکہ کتابوں کا موضوع ملتا جلتا ہے، اس لیے تکرار اور تداخل سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی ہے اور اسی لیے انحراف کی شکلیں اور مثالیں ہر جگہ بدل کر پیش کی گئی ہیں۔ 

 یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ نمبر ایک اتنا لکھ کر کیا ہوگا؟ نمبر دو اتنا کیسے لکھ لیتے ہو؟

دوسرے سوال کا جواب دوں تو بہت سی پرسنل چیزیں ذکر کرنا پڑیں گی جو میں نہیں چاہتا۔ ویسے بھی پرسنل باتیں بڑے لوگوں کی ہوں تبھی انھیں جاننے میں مزہ اور پڑھنے میں چٹخارہ آتا ہے۔

 رہا پہلا سوال، توکہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ اتنی مغز ماری کا فائدہ کیا؟ آپ کے کتاب لکھ دینے سے کیا یہ انحرافات اور گمراہیاں رُک جائیں گی؟ جی بالکل نہیں، مگر علمِ دین کا ایک قرض جو مجھ پر واجب ہے وہ ادا ہوجائے گا۔ میرے لیے اتنا کافی ہے کہ میں نے رب العالمین کے صحیفۂ ہدایت کے دفاع میں قلم اُٹھایا اور اپنی بساط بھر ملحدوں کے غلط انتسابات ودعاوی اور باطل پرستوں کے طلسموں  کا پردہ چاک کرنے کی سعی وجہد کی۔تفسیرِ قرآن کے غلط رجحانات اور فاسد مناہج کے خد وخال سب کے سامنے نمایاں کر دیے ہیں اور ان کی حقیقت وماہیت بھی کھول کر رکھ دی ہے اور ہر ایک کے پیچھے کارفرما اسباب ومحرکات سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔

 اب جس کے نزدیک اس کا دین اہم مسئلہ ہے اور اللہ کی کتاب سرچشمۂ ہدایت ہے،وہ چاہے تو ان منحرف منہجوں سے احتیاط برت سکتا ہے۔ اب وہ سادہ لوحی میں ان خرافات پر صاد نہیں کہہ سکے گا اور یہ فتنے بہ آسانی اسے اپنا شکار نہیں بنا پائیں گے۔ اس کے سامنے رجوع الی القرآن کا صحیح راستہ کھلا ہوگا جس پر چل کر وہ چاہے تو فہمِ قرآن کی لاثانی دولت کا حق دار بن سکتا ہے۔ ضلالت وانحراف اب اس کے فہمِ دین پر شنجون نہ مار سکیں گے اور قرآن کی بے آمیز تعلیمات کا خزانہ اس کے سامنے کھلا رہے گا۔وہ پورے شعور اور تعقل کے ساتھ قرآن کے چشمۂ صافی سے کسبِ فیض کر سکتا ہے اور سلفِ صالح کی طرح سعادت مندی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔

“تفسیروں میں انحراف کی شکلیں” کتاب ان شاء اللہ مکتبہ الفہیم مئو سے ایک دو ماہ چھپ جائے گی۔ سیکولر طرزِ تفسیر پر کام جاری  کیا ہوا ہے۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے تفسیری انحراف پر کچھ لکھنا ہے۔ 

ذیل میں مشمولات کی فہرست درج کر رہا ہوں:

فہرستِ مضامین

مقدمہ

علمِ تفسیر کا تعارف

 صحیح طریقۂ تفسیر

 تفسیر بالمأثور

 تفسیر بالمأثور کی اقسام

 قرآنی نظائر سے تفسیر

 تفسیر بالقرآن کی شکلیں

 حدیث کی روشنی میں تفسیر

 اقوالِ صحابہؓ کی مدد سے تفسیر

 تفسیرِ تابعینؒ

 تفسیرِ صحابہؓ کی علمی وقعت

 تفسیر بالمأثور کے مآخذ

 تفسیر بالرائے

 جائز تفسیر بالرائے

 جائز تفسیر بالرائے کی شکلیں

 ناجائز تفسیر بالرائے

 ناجائز تفسیر بالرائے کی شکلیں

 تفسیر بالرائے کی ممانعت

 ناجائز تفسیر بالرائے کی نشانیاں

 جائز تفسیر بالرائے کی شرطیں

 تفسیری غلطی

متفقہ اصولوں کی مخالفت

 نص کی موجودگی میں اجتہادی تفسیر

 اصولوں کی پابندی

 توضیحی مثالیں

 رؤیتِ باری کا انکار

 ظلم بہ معنی شرک

 قوماً آخرین

 مستقرِ آفتاب

 مغضوب علیہم اور ضالین

 نہرِکوثر

 احادیث اور افادۂ یقین

 رجوما للشّیاطین

 عمرِ نوحؑ

 آدمؑ کے دو بیٹے

 آیتِ حجاب

ضعیف اور موضوع روایتوں پر اعتماد

 ضعیف حدیث

 موضوع حدیث

 ضعیف حدیث سے اثباتِ قرأت

 ضعیف حدیث سے تفسیر

 ضعیف حدیث پر عمل

 ضعیف حدیث سے تفسیر

 موضوع حدیث کی حیثیت

 تفسیر بالحدیث

 توضیحی مثالیں

 مالک یوم الدین

 خشیتِ علماء

 سورتوں کے فضائل

 منافقت

 آدم وحواء سے شرک

 کنیزِفاطمہؓ

 نماز اور قربانی

 قصۂ غرانیق

 علامہ ابن حجرؒ کا شاذ موقف

 حضرت زینبؓ کا نکاح

 ضعیف اور موضوع روایات سے پُر تفسیریں

 شفاء الصدور، ابوبکر نقاش

 الکشف والبیان عن تفسیر القرآن،ابو اسحاق ثعلبی

 تفسیرِ واحدی، ابو الحسن واحدی

 ایک شبہے کا ازالہ

اسرائیلیات پر اعتماد

 اقسام اور حکم

 اسرائیلیات اور علمائے حق

 اسرائیلی روایتوں کے بد اثرات

 تصورِ خدا کا مسخ ہونا

 انبیاء کی کردار کشی

 حضرت لوط علیہ السلام

 حضرت داؤد علیہ السلام

 حضرت سلیمان علیہ السلام

 حضرت ہارون علیہ السلام

 دین کا استخفاف

 اسلاف پر خردہ گیری

 قرآن فہمی میں رکاوٹ

 توضیحی مثالیں

 عوج بن عنق

 اوریا حتی کی بیوی

 صخر مارد

 ضروری بات

 دو رُخاپن

 اسرائیلیات سے متاثر کتبِ تفسیر

غیر مستند واقعات پر اعتماد

 دینی مسائل میں احتیاط

 بے بنیاد قصوں کا انکار

 توضیحی مثالیں

 توسلِ حرام

 مسجدِ نبوی میں سکوت

 سلیمان بن یسارؒ

لغت اور کلامِ عرب

 آثار وروایات

 شریعت اور لغت

 قرأتِ صحیحہ کا انکار

 مصدقا بکلمۃ من اللّٰہ

 خوش حالی کا سال

 ایمان اور تصدیق

 برأتِ عیسیٰ

 دیدارِ الٰہی

 دستِ احسان

 مشہور لغوی تفاسیر

مجاز پر اعتماد

 لغت اور قرآن میں مجاز

 وقوعِ مجاز کے شرائط

 ترجیحِ حقیقت

 مجازی انحراف اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں

 کلامِ اشیاء

 تسبیحِ ارض وسماء

 فعلِ استہزاء

 کرسیِ الٰہی

 قصۂ آدم

 مشہور کتابیں

فلسفہ وکلام پر اعتماد

 علمِ کلام اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں

 شیاطین وجن

 نورِ الٰہی

 عرشِ الٰہی

 نفاثات فی العقد

 خناس

 حرکت وافول

 میزانِ الٰہی

 نیند اور موت

 دلیلِ امتناع

 حیاتِ اخروی

عقلیت پرستی

 عقل کی اہمیت اور مقام

 کارگاہِ عقل

 عقل ونقل

 نقل پر عقل کو ترجیح

 قاعدۂ کلیہ کا فریب

 عقل کی حاکمیت

 توضیحی مثالیں

 مقامِ محمود

 صفتِ علو

 بجلی کی گرج

 امدادِ ملائکہ

 تخلیقِ کواکب

بدعات کی پیروی

 بدعت کا دائرہ

 بدعت اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں

 ختمِ قلوب

 مرتکبِ کبیرہ کی سزا

 رؤیتِ جن

 جادو کا انکار

 وحدت الوجود

ناسخ منسوخ سے بے خبری

 تفہیمِ نسخ

 منکرینِ نسخ

  ناسخ ومنسوخ کا علم

 تعیینِ نسخ میں احتیاط

 معرفتِ نسخ کے طریقے

 فضول دعوے

 تخصیص اور نسخ

 نسخ اور تخصیص میں فرق

 بیان اور نسخ

 زوالِ سبب اور نسخ

  ردِ جاہلیت اور نسخ

 اضافی حکم اور نسخ

 نص پر اضافے کی مثالیں

 سنت کے اضافے کی شکلیں

 منسوخ کو محکم سمجھنا

آیاتِ صفات کی کھوج بین

 آیاتِ صفات اور اہلِ بدعت

 آیاتِ صفات میں غوروخوض

 توضیحی مثالیں

 صفتِ ید

 استواء علی العرش

تاویل پسندی

 تاویلی رویہ اور اسلافِ امت

 تاویل اور متاخرین

  تاویل کی اقسام

 صحیح تاویل

 فاسد تاویل

 تاویلِ فاسد کے نقصانات

 ۱-نصوصِ شریعت سے بے اطمینانی

 ۲-جرأتِ تحریف

 ۳-بے اصولی

 ۴-تفرقہ پردازی

 ۵-فکری انتشار

 تاویلِ فاسد اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں

 عوام اورخواص

 صراطِ مستقیم

 ذلک الکتاب

 ولیِ امر

  سلامٌ علیٰ إلیاسین

 وماہم بمؤمنین

 جبت اور طاغوت

 خوابِ یوسفؑ

 خلیل اللہ

 غوایتِ آدم

متشابہات کی جستجو

 قرآن میں محکم اورمتشابہ

 راسخون فی العلم

 متشابہات کی اقسام

 متشابہات اور علمائے حق

 متشابہات کا انکار

 حکمتِ متشابہات

 توضیحی مثالیں

 ادھورا استدلال

 تقدیر کا انکار

 اختیار کی نفی

 عدلِ الٰہی

 دیدارِ الٰہی

 حکمت اور امتحان

 مدحِ صحابہؓ

 جہنم میں خلود

تحریف پسندی

 اقسامِ تحریف

 علاماتِ تحریف

 اصنافِ محرفین

 تحریفی تاویل اور تفسیری تاویل

 تحریف کے نتائج

 تحریف اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں

 صفتِ کلام

 صفتِ ساق

 صفتِ استواء

 ہاتھ یا قدرت

 وحدتِ ادیان

 فرعونیت پسندی

 ایمانِ فرعون

 فرعون دشمنِ حق

 فقہی تعصب

شذوذ پسندی

 شذوذ پسندی اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں

 مسخِ صوری

 ہابیل وقابیل

 رؤیت اور انتظار

 سجودِ ملائکہ

 حکمِ نماز

 بردِ جہنم

 ماکان لہم الخیرۃ

 احیائے میت

غیب کی عقلی تفہیم

 غیب کا عقلی فہم اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں

 امتِ نوحؑ

 عہدِ الست

 رؤیتِ جہنم

 وجودِ ملائکہ

 شیاطین وجنات

 فعلِ جن

 ولادتِ عیسیٰ

روایت پسندی میں مبالغہ

 تفسیری روایات اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں

 ثعلبہؓ بن حاطب

 ام المومنین زینبؓ کا نکاح

 یوسفؑ اور زلیخا

 عبیداللہ بن جحشؓ کا ارتداد

تعصب پسندی

 کتاب وسنت کا اہتمام

 فقہی اجتہادات

 اتباع یا تقلید

 تقلیدِ مذموم

 جائز تقلید کی شرطیں

 ایک مسلک کی پابندی

 مسلکی تعصب کے نقصانات

 توضیحی مثالیں

 ایمان میں کمی بیشی

 ارتکابِ کبیرہ

 نکاح بہ اذنِ ولی

 مشرکین کی نجاست

 ذوی القربی

 مسلکی تعصب کا علاج

 نمایاں فقہی تفاسیر

 سیاسی تعصب

 بنو امیہ سے نفرت

 خوارج سے نفرت

 آلِ علی سے نفرت

 انگشتری کا قصہ

 ابوسفیانؓ سے نفرت

 حروفِ مقطعات

 نصر اللہ اور فتح کی آمد

 بغضِ معاویہؓ

 خلافتِ معاویہ

الحاد اور زندقہ

 توضیحی مثالیں

 اشتراکیت پسندی

 ذاتی ملکیت کی نفی

 وعدۂ رزق

 مرکزِ ملت

 اسلامی سزائیں

 حدِ رجم

 اسلامی پردہ

 شرم وحیا

 اباحیت پسندی

 منافقانہ رواداری

 فہمِ صحابہؓ کی نفی

 فسانۂ محبت

 بے مہار آزادی

 بے غیرتی اوردیوثی

 زناکار بیوی

 قرآنی صداقت

 تعددِ ازواج

 غایتِ وجود

 غلامی کا مسئلہ

 گمراہی کی وجہ

 بدعت پسندی

 توضیحی مثالیں

 قبہ ومزار

 حرمتِ سود

 رحمت اور خوف

 میلاد النبیﷺ

 تلاشِ وسیلہ

 علمِ غیب

 حاضر وناظر

 سلسلۂ بیعت

 اہلِ بدعت کی اصناف

 اہلِ بدعت کی مشہور تفاسیر

باطنی تصوف

 ظاہر وباطن

 نظریاتی تفسیر

 تفسیرِ اشاری

 تفسیرِ اشاری کا حکم

 نظری تفسیر اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں(نظریاتی صوفی تفسیر)

 نظریۂ وحدۃ الوجود

 مصطفی یا خدا

 کارِ بشر کارِ خدا

 لاموجود الا اللہ

 معرفتِ ربانی

 بیعت یا دست بستگی

 تجلیِ حق

 غیب وشہود

 خوانِ معرفت

 امدادِ الٰہی 

 مدارجِ توحید

 حقائقِ وجود

 تصرف اولیاء

 اتباعِ شیخ

 امامِ طریقت

 نماز کا کردار

 توضیحی مثالیں(تفسیرِ اشاری)

 شجرِ ممنوعہ

 بسم اللہ

 معانیِ مقطعات

 مجاہدہ یا جہاد

 ملکوتی جمال

 آیۃ الکرسی

 معیتِ خداوندی

 بارانِ رحمت

 بلدِ آمن

 اخذِ میثاق

 عصائے موسیٰ

 حج وعمرہ

 خانۂ کعبہ

 تفاسیرِ صوفیہ کا تجزیہ

 توضیحی مثالیں(باطنی تفسیر)

 برزخ وبحرین

 لباس

 ازواجِ مطہراتؓ

 ذاتِ الٰہی

 شیطان کی پیروی

 یتیم امت

 بروجِ فلک

 بیت العلم

 مقابر

 طیِ سجل

 بشارت

 ادھوری عبادت

 انہارِ جنت

 غلامیِ فرنگ

تجدد پسندی

 متجددین کی آراء

 تفسیرِ مأثور کی تحقیر

 ماضی سے بیزاری

 قرآنی ابدیت کا انکار

 قرآن پر تنقید

 علمِ اسلاف سے گریز

 فکری تجدد کی شکلیں

 جاہلانہ تجدید اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں

 انکارِ معجزات

 اخبارِ غیبیہ

 وحیِ ربانی

 نبی اور رسول

  ایک سے زائد بیوی

 مرد کی قوامیت

 مساواتِ مرد وزن

 اتحادِ ادیان

 حدودِ شرع

 حجاب

 نظامِ میراث

 اسلامی جہاد

سائنس پرستی

 سائنسی تفسیر کے شرائط

 سائنسی تفسیر اور علمائے حق

 سائنسی اعجاز اور سائنسی تفسیر

 توضیحی مثالیں

 قرآن مجمع العلوم

 سرچشمۂ معلومات

 فرشِ خاکی

 معتدل مزاجی

 آیات وتراجم

 ابابیل اور جراثیم

 عقیدۂ تخلیق

 نظریۂ ارتقاء

 نظریۂ ارتقاء کا جائزہ

 مرکزِ تعقل

  انسانی جوڑا

 برقی رو

 تیزرفتار سواریاں

 قانونِ جاذبیت

 حرکتِ جبال

 توسیعِ کائنات

 خلائی سفر

 جواہر القرآن

 تحضیرِ ارواح

 وسائلِ تفتیش

 سات آسمان

 سائنس دشمنی

 آسمانی دروازے

خود ساختہ تصورات

 توضیحی مثالیں

 فیضانِ الٰہی

 پایۂ تخت

 عقیدۂ رجعت

 سہ روزہ اور چلہ

شرطوں کا فقدان

 قواعدِ ترجیح

 دائرۂ کار

 قاعدے اور مثالیں

 متواتر اور شاذ قرأتیں

 مطابقتِ رسم الخط

 سیاق کی رعایت

 سببِ نزول کی رعایت

 نظائرکی رعایت

 حقیقتِ شرعیہ کا لحاظ

 اصولی حیثیت کا پاس

منہجِ سلف سے بے رغبتی

 منہجِ سلف کی پابندی

 منہجِ سلف کی خصوصیات

 فہمِ سلف کا مقام

 فہمِ سلف کی خصوصیات

 اتباعِ سلف کے فائدے

 منہجِ سلف کی مخالفت اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں

 صفتِ استواء

 حاکمیتِ الٰہ

 انکارِ حدیث

 اسرائیلی گواہ

عربی زبان سے ناواقفیت

 قواعد کی پابندی اور علمائے حق

 توضیحی مثالیں

 تنور کا ابلنا

 جزوِ الٰہی

 نسبتِ مادری

 حرفِ کاف

 آدمؑ کی غلطی

 نظر اور انتظار

 تعدادِ منکوحات

 حرمتِ خنزیر

 علم الجمل

 کرسیِ الٰہی

 ذرأنا لجہنم

شرم گاہ کی حفاظت 

قرآنی مقاصد سے غفلت

نزولِ قرآن کے مقاصد

توضیحی مثالیں

واقعۂ افک

ایجارِ مشرک

قتلِ یتیم

نکاحِ محرمات

کنیز کی فروخت

غضِ بصر

اختتامیہ

فہرستِ مراجع ومصادر

والسلام

Based on 0 reviews

0.0 overall
0
0
0
0
0

Only logged in customers who have purchased this product may leave a review.

There are no reviews yet.

No more offers for this product!

Shipping Policy

Shipping available with registered parcel by Indian Post

Refund Policy

No Refund. 

Cancellation / Return / Exchange Policy

No Return/Exchange

General Inquiries

There are no inquiries yet.

0